Leader
ELITE MEMBER

- Joined
- Sep 7, 2010
- Messages
- 29,153
- Reaction score
- 9
- Country
- Location
معذوروں کے عالمی دن کے موقع پر لاہور میں نابینا افراد پر پولیس تشدد کے بعد محترمہ مریم نواز صاحبہ کا ٹویٹ نظر سے گذرا جس میں شہزادی محترمہ فرماتی ہیں کہ : "مجھ میں نابینا افراد پر ہونے والا تشدد دیکھنے کی ہمت نہیں۔ ابو لندن میں ہیں اور چچا قطر گئے ہوئے ہیں۔ کاش وہ یہاں ہوتے تو ایسا کبھی نہ ہوتا۔" ایک "مخصوص" طبقہ اس ٹویٹ کو دیکھ کر عَش عَش کر اٹھے گا کہ ہماری فیوچر کی پرائم منسٹر کتنی رحم دل ہیں اور واقعی اگر "شیر" یہاں ہوتا تو ایسا نہ ہوتا۔
لیکن میرا سوال ہے کہ اگر ملک کا نظم و نسق اتنا ہی کمزور ہے کے آپکے ابو اور چچا کی غیر موجودگی میں نہیں چل سکتا تو پھر آپکے ابو زیادہ وقت ملک سے باہر ہی کیوں گذارتے ہیں اور اس دوران آپکے ابو کی سلطنت پر کیا گذرتی ہوگی. حقیقت یہ ہے کہ آپ لوگوں نے اپنے ستائیس سالہ دورِ اقتدار میں باقی محکموں کی طرح پنجاب پولیس کو بھی تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ عدالت کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کئ ہزار جرائم پیشہ لوگ پنجاب پولیس میں آپ کے ابو کے ادوار میں بھرتی کیے گئے ہیں۔ اب ادارے کوئی پل یا سڑکیں تو ہوتی نہیں کہ ان کی طرف آپ کی توجہ جاتی اس لیے اب بھی ملک کے بائیس سے زیادہ ادارے بغیر سربراہان کے چل رہے ہیں۔ اور جو کچھ اداروں کے سربراہ لگائے بھی گئے ہیں وہ بھی عبوری بنیادوں پر۔ کیونکہ جس بندے کو یہ نہیں پتہ کہ وہ کل صبح تک اس ادارے میں ہوگا بھی یا نہیں یا طارق ملک کی طرح رات کے دو بجے برطرف کر دیا جائے گا وہ کیسے آپ کے ابو کے مزاج کے خلاف کام کرے گا یا ادارے کی بہتری کے بارے میں سوچ سکے گا۔
پاکستان کے جغرافیائی حالات کو مدِنظر رکھیں اور افغانستان، انڈیا، ایران کے ساتھ پاکستان کے کشیدہ تعلقات کے تناظر میں پاکستان کی اگر کوئی سب سے اہم وزارت ہونی چاہیے تو وہ ہے وزارتِ خارجہ۔ لیکن وہاں بھی کوئی مستقل وزیر تعینات کرنے کی بجائے آپ نے ایک پارٹ ٹائمر مشیر مقرر کیا ہوا ہے۔ اس کے بعد جو اہم ترین وزارت ہے وہ دفاع کی ہے ۔ چونکہ آپکے ابو سا بہترین دماغ اور بے بہا انتظامی صلاحیتیں رکھنے والا آپکے چچا کے علاوہ اور کوئی شخص دنیا میں اللہ نے نہیں بھیجا اس لیے کئی دوسری وزارتوں کے ساتھ یہ وزارت بھی انھوں نے اپنے پاس ہی رکھی ہوئی تھی۔ لیکن عدالت نے ایک ایشو پر پر وزیرِ دفاع کو طلب کر لیا۔ چونکہ عدالت کے سامنے پیش ہونا تو آپ کے ابو کی توہین تھی اس لیے انھوں نے فوری طور پر خواجہ آصف کو وزیرِ دفاع بنا دیا جو وزیرِ پانی و بجلی بھی ہیں اور ملک میں اتنے بڑے انرجی کرائسس کو دیکھتے ہوئے وہ خود ایک بہت اہم اور ڈیمانڈنگ وزارت ہے۔ دوسری طرف وزیرِ موصوف پہلے ہی فوج کے خلاف اتنا زہر اگل چکے تھے کے اب وازارتِ دفاع میں ان کا فون بھی نہیں سنا جاتا۔
دنیا میں اس وقت صرف تین ممالک ہیں جہاں پولیو وائرس باقی رہ گیا ہے۔ افغانستان، نائجیریا اور پاکستان۔ اس کے علاوہ ڈینگی، ایڈز، ہیپاٹائٹس اور ایبولا جیسی بڑھتی ہوئی بیماریوں کے پیشِ نطر تیسری اہم ترین وزات صحت کی ہونی چاہیے۔ لیکن اس کے لیے پاکستان بے فکر ہے کیوں کہ یہ وزارت بھی آپ کے ابو کی کرشماتی شخصیت نے اپنے پاس ہی رکھی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ بھی پنجاب اور وفاق میں وزارتوں کی ایک لمبی لسٹ ہے جن پر آپکے والدِ محترم اور چچا حضور کی "نظرِ کرم" ہے۔ بات تو پنجاب پولیس سے شروع ہوئی تھی لیکن لمبی ہوگئی۔ پنجاب پولیس کی بہتری کے لیے تو میرے پاس ایک تجویز ہے کہ آئندہ سے پنجاب پولیس کے ہاتھ میں ڈنڈے کی بجائے اتفاق فاؤنڈری کا سریہ دے دیا جائے اس طرح پنجاب پولیس اور بہتر طور پر اپنے "فرائض" انجام دے سکے گی اور اتفاق فاؤنڈری کے سریہ کی وجہ سے سے شاید اس محکمہ پر بھی غیر ضروری پلوں اور سڑکوں کے بعد آپ کی توجہ چلی جائے۔
جاتے جاتے آپ کے ٹویٹ کے حوالے سے ایک بات اور کہ آپ فرماتی ہیں کہ مجھ سے یہ تشدد دیکھا نہیں گیا اور اگر ابو اور چچا ملک میں موجود ہوتے تو ایسا نہ ہوتا۔ تو پھر میرا سوال ہے کہ ماڈل ٹاؤن میں ایسا کیوں ہوا تھا کہ آپ کے چچا کے ہمسائے میں دن دیہاڑے سو بے گناہ لوگوں پر گولیاں برسا دی گئی تھیں جبکہ آپ کے چچا ملک چھوڑیں، چلیں شہر بھی چھوڑیں ان لوگوں کے ہمسائے میں موجود تھے۔ اور آپ کے ابو بھی ملک میں ہی تھے۔ تب انھوں نے پولیس کو کیوں نہیں روکا؟ اور اس وقت آپ کو یہ بربریت دیکھنے کی ہمت کیسے ہوگئ؟ شاید اس لیے کے ان بے گناہوں لوگوں کے خون کے چھینٹے آپ کے ابو اور چچا کے چہروں پر بھی ہیں۔
لگا کے آگ شہر کو یہ بادشاہ نے کہا
اٹھا ھے آج تماشے کا دل میں شوق بہت
جھکا کے سر کو سبھی شاہ پرست بول اٹھے
حضور شوق سلامت رھے شہر اور بہت
(محمد تحسین)