• Saturday, December 16, 2017

Political Columns

Discussion in 'Pakistani Siasat' started by Horus, Aug 6, 2012.

  1. Dastaan

    Dastaan FULL MEMBER

    Messages:
    726
    Joined:
    Jan 6, 2017
    Ratings:
    +0 / 479 / -0
    Country:
    Pakistan
    Location:
    Pakistan
    سہیل وڑائچ
    SEPTEMBER 20, 2017 | 12:00 AM
    عمران خان کو اقتدار دیں
    خدا لگتی کہتا ہوں اب اقتدار عمران خان کا حق ہے۔ نواز شریف نااہل ہوچکے اور ان کے بعد عمران خان ہی مقبول ترین رہنما ہیں۔ اس لئے فوراً الیکشن کر وا کر زمام اقتدار ان کے حوالے کریں تاکہ عوام کی براہ راست منتخب اور محبوب لیڈرشپ بحرانی دور کے بڑے بڑے فیصلے کرسکے۔ 4سال پہلے پاکستانیوں کی اکثریت نے نواز شریف کو وزیراعظم بنا کر ملک و قوم کے فیصلے کرنے کا اختیار دیا تھا اب جبکہ وہ گھر جاچکے ہیں تو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو براہ راست عوام کا یہ اعتماد حاصل نہیں کہ وہ بحرانی دور میں بڑے فیصلے کرسکیں۔ یوں اس وقت ایک کمزور ترین جمہوری حکومت ہے جو بڑے حکومتی فیصلے نہیں کرسکتی۔ وزیراعظم عباسی کبھی نواز شریف سے ملنے جاتے ہیں اور کبھی بیچارے طاقت کے دوسرے مراکز میں اپنے آپ کو منوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں اس مشکل سے نکالیں فوراً لیکشن کا ڈول ڈالیں اور نئی منتخب حکومت کو بڑے فیصلے کرنے دیں۔ پاکستان میں برطانیہ کی طرح کا پارلیمانی نظام ضرور قائم ہے لیکن یہاں پارٹی حکومت نہیں بلکہ شخصی حکومت ہوتی ہے۔ لوگوں نے ن لیگ کے نشان کو ضرور ووٹ دیا تھا لیکن مقصد نواز شریف کو اقتدار میں لانا تھا اب جب نواز شریف نااہل ہو گئے تو اب ان کی جگہ پارٹی میں سے کسی بھی ڈمی کو وزیراعظم بنانا انصاف نہیں اس اقتدار سے ن لیگ کو تو سیاسی فائدہ ہو سکتا ہے عوام کو کیا ملے گا؟ ن لیگ کے تو مزے ہی مزے ہیں۔ وفاقی حکومت بھی ان کی، پنجاب کی صوبائی حکومت بھی ان کی اور تو اور وہ اپوزیشن بھی خود ہی بن گئے ہیں۔ حکومتی مراعات کا لطف بھی اٹھا رہے ہیں اور اپوزیشن ہونے کا سیاسی فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان نے تاریخ ساز فیصلے کرنے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا ساتھ دینا ہے یا غیرجانبدار رہناہے، الیکشن کب کرواناہے، نگران حکومت میں کون ہوگا؟ نیب کا اگلاسربراہ کون ہوگا وغیرہ وغیرہ۔ دل پرہاتھ رکھ کر بتائیں کہ عوام نے وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کو کب مینڈیٹ دیا تھا کہ وہ ملک کی قسمت کے بارے میں اتنے بڑے بڑے فیصلے کریں۔ لوگوں نے تو نوازشریف کو اس کام کے لئے چنا تھا۔ اب وہ نہیں تودوسرامقبول ترین لیڈر عمران خان ہے۔ بڑے فیصلے کرنے ہیں تو عمران خان کو لائیں۔ وہی یہ فیصلے کرے تاکہ ان بڑے فیصلوں میں عوامی خواہشات کی ترجمانی بھی ہو۔ شاہد خاقان عباسی عملی آدمی ہیں۔ بھلے شخص ہیں مگر وہ ایک کمزور سیاسی حکومت کے سربراہ ہیں۔ انہیں پاکستان کے مستقبل کے بار ےمیںفیصلہ کرنے کا اختیار دینا ان کے ساتھ بھی زیادتی ہوگی۔ مجھے یہ کہنے دیجئے کہ عمران خان کو اقتدار میں نہ لا کر ہم جنرل یحییٰ خان والی غلطی دہرا رہے ہیں۔ انہوں نے الیکشن کروانے کے بعد انتقال اقتدار میںاتنی دیر لگا دی کہ ملک ہی بکھر گیا۔ اب الیکشن کروانے میں اتنی دیر کی جارہی ہے کہ لیڈر شپ کا حوصلہ ہی ٹوٹ جائے اور وہ الیکشن تک کا لمبا فاصلہ طے کرتے کرتے ہانپ جائے۔ جمہوریت ایک تسلسل کا نام ہے۔ جب ایک گھوڑا رُک جائے، ناکارہ ہو جائے یا تھک جائے تو نظام کو چلانے کے لئے تازہ دم گھوڑے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ افکار ِ تازہ سے ملکی مسائل حل کرے۔ اب وہ وقت ہے کہ نئی قیادت کو موقع دیا جائے۔ برصغیر کی مشہور رزمیہ کہانی ’’مہا بھارت‘‘ کی دروپدی کے پانچ پانڈو شوہر دکھائے گئے ہیں۔ ہمارے محبوب وزیراعظم خاقان عباسی کو بھی کئی شوہروں کو خوش رکھنا ہے۔ اس لئے وہ کوئی بڑا فیصلہ نہیں کرسکیں گے۔ صرف قوم کا وقت ضائع ہوگا۔ گومگو ختم کرنی ہے، کنفیوژن اُڑانا ہے تو پھر فوراً الیکشن کروائیں۔ عمران جیتیں تو ان کو وزارت ِ عظمیٰ دیں تاکہ وہ ملک کو چلائیں۔ ایک سال کا انتظار کیوں؟ یہ سراسر غلط، غلط اور غلط فیصلہ ہے۔ عمران خان کو جاننے والے جانتے ہیں کہ اس نے اپنی حکومت کا لائحہ عمل طے کر رکھا ہے۔ اقتدار آنے کی دیر ہے کہ چند مہینوں میں نقشہ بدل جائے گا۔ اس نے دنیا بھر میں 100ایسے ٹیکنوکریٹ پاکستانی چن رکھے ہیں جنہیں وہ پاکستان واپس بلا کر مختلف اداروں اور محکموں کا انچارج بنادے گاکیونکہ وہ انہی شعبوں کے ورلڈ کلاس ماہرین ہیں۔ عمران خان کو اچھی طرح علم ہے کہ کون پی آئی اے کوٹھیک کرسکتا ہے اور کون بجلی کی لوڈشیڈنگ پر قابو پا سکتا ہے، فنانس کوکس نے دیکھنا ہے اور معاشی اصلاحات کون کرسکتا ہے؟ بات صرف موقع کی ہے کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ یہ موقع دیا جائے؟ عمران خان کیس کی حمایت کوئی اتنی مشکل بھی نہیں۔ وہ بنا بنایا ہیرو ہے۔ 1992کا ورلڈ کرکٹ کپ جیت چکا ہے، شوکت خانم کے ذریعے ادارہ سازی میں اپنا سکہ جما چکا ہے، جلسے اور جلوس اس کے بڑے ہیں۔ محب وطن وہ سب سے زیادہ ہے۔ لوگ اس کے ساتھ ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ سے کوئی بڑا اختلاف نہیں تو پھر مسئلہ کیا ہے؟ اقتدارعمران کا حق ہے اور اسے دیا جائے تاکہ وہ نیا پاکستان بنا سکے۔ عمران آئے گا تو پاکستان پر ہُن برسے گا، بیرون ملک آباد پاکستانی عمران خان اور تحریک ِ انصاف پر جان چھڑکتے ہیں۔ بڑھ چڑھ کر پارٹی فنڈ دیتے ہیں۔ عمران خان کے برسراقتدار آتے ہی یہ سب لوگ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے اور یوں پاکستان کی معاشی حالت بہتر سے بہتر ہوتی چلی جائے گی۔ توقع یہی ہے کہ عمران خان کرپشن کے خلاف ایک موثر نظام بنائیں گے جس میں انتقام نہیں بلکہ واقعی احتساب ہوگا۔ یادش بخیر 2013کے الیکشن سے پہلے صرف پی ٹی آئی ہی نہیں امریکی اور برطانوی سفارتکاروں کابھی یہ خیال تھا کہ عمران خان وزیراعظم بن رہے ہیں اگروہ اس وقت عمران خان کے وزیراعظم بننے کی توقع کر رہے تھے تو اب بھی امید ہے کہ وہ عمران خان کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ بنالیں گے۔ کوئی کچھ بھی کہے عمران خان پاکستانیت کے بارے میں کسی احساس کمتری کا شکار نہیں ہیں۔ وہ اقوام عالم میں ڈٹ کر اپنا موقف پیش کریں گے۔ نئی افغان جنگ پر امریکہ سے ڈیل کی ضرورت پڑی تو وہ ٹرمپ سے باعزت اورمنافع بخش ڈیل کریں گے۔ جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کی طرح سستے داموں آگ کے شعلوں میں نہیں کودیں گے۔ وہ سول اور ملٹری تعلقات کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔ طرز ِ حکمرانی میں تبدیلی لانا تو ان کی مجبوری ہوگی کیونکہ وہ سب سے زیادہ تنقید اسی پر کرتے رہے ہیں۔ بھارت میں ان کی بہت دوستیاں بھی ہیں اور ان کے وہاں پرستار بھی بہت ہیں۔ وہ بھارت سے مذاکرات کا کوئی راستہ بھی نکال سکتے ہیں۔ خدشہ بس ایک ہے کہ ان کا مزاج برہم ہوا تو میڈیا پر سختی نہ شروع کردیں۔ میڈیا کی آزادی بھی گڈگورننس کا حصہ ہے اس پر انہیں ضرور غور کرنا چاہئے۔ آخر میں عرض ہے کہ بطور اپوزیشن کے مقبول حکمران، حکمرانی کا تاج ان کی جھولی میں پڑا ہے بس اپنی مینجمنٹ اتنی تو بہتر کرلیں کہ جھولی سے اٹھا کر تاج کو اپنے سر پر رکھ لیں۔

    https://jang.com.pk/print/377845-imran-khan-ko-iqtidaar-den

    حسن نثار
    SEPTEMBER 20, 2017 | 12:00 AM میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا
    مجھ جیسے کودن، غور و فکر سے عاری، سوشلائزیشن سے متنفر شخص کے لئے، جس کارپورٹنگ سے بھی کبھی کوئی لینادینا نہیں رہا، یہ زندگی کافی مشکل ہے کیونکہ نہ کوئی بات سمجھ آتی ہے نہ کسی بات کی کوئی خبر ہوتی ہے اس لئے ٹامک ٹوئیاں مارتا رہتا ہوں مثلاً مجھے یہ بات بالکل سمجھ نہیں آ رہی کہ اگر متعلقہ، متاثرہ، فریق یا فریقین جرائم پیشہ نہیں اور ان کے دست و دامن بے داغ ہیں تو حدیبیہ کیس کے ری اوپن ہونے میں کیا تکلیف ہے؟ اگر آپ چور نہیں ہیں تو دوسری کیا، دسویں مرتبہ بھی کوئی یہ کیس کھولے گاتو منہ کی کھائے گا لیکن اگر آپ وارداتیئے ہیں، گھر کا نام ’’ہجویری‘‘ اور اصل کام ہیراپھیری ہے تو پھر یقیناً بردہ فرشوں کو اپنے اپنے منطقی انجام تک پہنچنا چاہئے۔بھاگ ان بردہ فروشوں سے کہاں کے ’’لیڈر‘‘بیچ کھائیں ہیں جو یوسف سی ’’رعایا‘‘ ہووےبردہ فروش تو اپنے پورے ’’کیریئر‘‘ میں چند سو یا چند ہزار انسانوں کی خرید و فروخت میں ملوث ہوتا ہوگا، خائین حکمران تو کروڑوں انسانوں کی قسمتوں کی قیمتیں اِدھر اُدھر کر جاتے ہیں۔ عدیم ہاشمی یونہی نہیں چیخا تھا؎بوزنے ہیں تو ملے ہم کو ہمارا جنگلآدمی ہیں تو مداری سے چھڑایا جائےتسلیم کہ ہم بوزنے بندر ہیں تو پلیز ہمیں جنگلوں کے سپردکردو لیکن اگر ہم آدم زاد ہیں تو ہمیں ان مداریوں سے نجات دلائو جو ہماری وجہ سے خلیجی و مغربی ملکو ںمیں بیش قیمت اثاثے بناتے ہیں لیکن ہمیں نسل در نسل3 مرلوں کی چھت بھی نصیب نہیں ہوتی اور جسے ہو جاتی ہے وہ بھی ہمیں یوں بھول جاتا ہے جیسے اس کاہمارا ناطہ ہی کوئی نہ ہو۔قصور کسی اور کا نہیں، میرا پلّا ہی اتنا بوسیدہ اور پھٹا پرانا ہے کہ میرے پلّے کچھ نہیں پڑتا مثلاً مجھے یہ منطق بھی اپیل نہیں کرتی کہ قطری شہزادہ فیم برادر اسلامی قطر سے لائی گئی ایل این جی (LNG) کے معاہدوں کوبھی دُم یاگردن موڑنے، ٹینٹوا دبانے یعنی بلیک میل کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے تو میرے نزدیک اس کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہے کہ بہت بڑی واردات وہاں بھی ڈالی گئی ہے۔ نہیں تو کسی اور کا انتظار کیوں؟ سارے معاہدے، تمامتر دستاویزات خود ہی عام کردو ورنہ’’جنہاں کھادیاںگاجراں ڈھڈ اونہاں دے پیڑ‘‘ توہونی ہی ہے۔ مطلب یہ کہ جو لال لال رسیلی گاجریں کھائےگا اسے پیٹ درد توفیس کرنا ہی پڑے گا اور یہ تو وہ ہیں جنہوں نے گاجروں کے کھیت کھائے ہیں۔ مجھے تو آج تک یہی سمجھ نہیں آئی کہ اپنی ٹوٹی پھوٹی گلیاںبنانے سےپہلے موٹروے بنانے کی کیا تُک بنتی ہے؟ پرائمری سے فارغ ہوئے بغیر پی ایچ ڈی کرنے کے ان شوقینوں کی کون سی حرکت قابل فہم ہے اور کمال یہ کہ جن کارناموں پر ڈوب مرنا چاہئے، یہ ان پرفخر کرتے اور ان کا کریڈیٹ لیتے ہیں۔غالباً عثمان ڈار نام ہے سیالکوٹ کے اس سمارٹ سے نوجوان PTI لیڈر کا جسےٹی وی پر گفتگو کرتے سن کر میں حیران رہ گیا۔ مجھے علم نہیں تھا کہ اس کا ایک گرائیں وزیر جو آج ارب پتی ہے، کبھی بنک میں بہت ہی معمولی اور ادنیٰ سا ملازم تھا۔ اک دوسرا وزیر با تدبیر شرمناک ترین شرائط سے مزین اقاما طوق کی طرح گلے میں لٹکائے پھررہا ہے۔ واقعی اجڑے باغاں دےگالڑ پٹواری اور للو پلٹن کا تاجا حوالدار۔مسلسل اعتراف کئے جارہا ہوں اور اس اعترافی بیان کے جواب میں وعدہ معاف گواہ بننے کی خواہش بھی نہیں کہ مجھے اس شہر آسیب کی کوئی بات سمجھ نہیںآتی اور ایسی بے شمارباتوں میں ایک بات ’’ووٹ کا تقدس‘‘ بھی ہے۔ کون سا ووٹ اور کیسا تقدس؟ کج فہمی اور کم عقلی کے باعث میرا خیال ہے کہ ’’ووٹ کے تقدس‘‘ سے مراد ہے ووٹر کا تقدس اور احترام تو اس کی جتنی پامالی ووٹ لینے والے ٹوٹ بٹوٹ کرتے ہیں، کوئی اور اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا کیونکہ اس کھیل سے کسی اور کا تو کوئی تعلق ہی نہیں۔ ووٹر کی عزت اور عزت ِ نفس کی اس سے زیادہ پامالی کیا ہوسکتی ہے کہ اس دو ٹانگوں والے ’’چوپائے‘‘ کو پینے کاصاف پانی بھی نصیب نہیں اور ووٹ تو بھٹو، بینظیر بھٹو بلکہ زرداری کا بھی بہت بلکہ تم سے بڑھ کر تھا، تم نے خود ان کے ساتھ کیا کیا؟ خود عاشقی کرنی ہو تولڑکپن میں بھی مجنوں پر سنگ اٹھاتے ہوئے اپنا سر یاد کرلینا چاہئے تھا لیکن جزوی طور پر تم بھی سچے تھے کہ جب کوئی سرے محل سامنے آئے گا تو ووٹ کا تقدس سیدھا کوڑے دان میں جائے گا اور بالکل اسی طرح پاناما ہوگا تو پھر بھی یہ نام نہاد تقدس اس کی گہرائی میں غرق ہو جائے گا سو پہلے خود ووٹ یعنی ووٹر کے تقدس کا سبق سیکھو۔ حلقہ 120 کے ضمنی انتخاب کی مہم کے دوران پورے پاکستان نے اس حلقہ کی زبوں حالی ٹی وی اسکرینوں پر دیکھی جس کا ’’ذاتی‘‘ وزیراعظم نااہل ڈیکلیئر کئے جانے تک پورے ملک میں ’’ترقی ترقی‘‘ چلاتا پھرتا تھا جبکہ اس کے اپنے حلقہ انتخاب میں قدم قدم پر خاک اڑ رہی تھی، گٹر ابل رہے تھے، کیچڑ بہہ رہا تھا، گلیاں ٹوٹی پھوٹی تھیں اور لوگ غلیظ پانی پینے پر مجبور تھے تو دراصل یہ تم خود ہو جوووٹ کے تقدس کو روندتے اور پامال کرتے ہو۔باتوں باتوں میں پیپلزپارٹی بھی بیچ میں آگئی تو سچی بات ہے مجھے ان کی بھی سمجھ نہیں آتی۔ چار ساڑھے چار سال سے تو میں اسے ’’مرحومہ مغفورہ‘‘ قرار دے رہا ہوں لیکن سمجھ نہیں آتی یہ پھر بھی ہاتھ پائوں مارنے سے باز کیو ںنہیں آتے؟ حلقہ 120میں ضمانت ضبط کرانے کے بعد بھی ان کا خبط بدستور برقرار ہے تو کوئی آصف زرداری صاحب کو کسی سیانے کا یہ قول سنائے کہ ’’جب کوئی پارٹی فلاپ ہوجائے تو اس میں جان ڈالنے کی سعی ٔ رائیگاں سے بہتر ہے آدمی نئی پارٹی بنا لے‘‘ لیکن پھر وہی بات کہ نہ انہیں میری سمجھ آئے گی نہ مجھے ان کی۔

    https://jang.com.pk/print/377844-meri-samajh-main-kuch-nahi-aata

    [​IMG]

    http://m.dunya.com.pk/index.php/author/munir-ahmed-baloch/2017-09-20/20746/83357353

    [​IMG]

    http://m.dunya.com.pk/index.php/author/rauf-kalsra/2017-09-20/20741/74440474

    [​IMG]
    http://m.dunya.com.pk/index.php/author/haroon-ur-rahid/2017-09-20/20738/88822967
     
  2. Dastaan

    Dastaan FULL MEMBER

    Messages:
    726
    Joined:
    Jan 6, 2017
    Ratings:
    +0 / 479 / -0
    Country:
    Pakistan
    Location:
    Pakistan
  3. Dastaan

    Dastaan FULL MEMBER

    Messages:
    726
    Joined:
    Jan 6, 2017
    Ratings:
    +0 / 479 / -0
    Country:
    Pakistan
    Location:
    Pakistan
    حسن نثار SEPTEMBER 29, 2017 | 12:00 AM جیسا وزیراعظم ویسا ہی وزیرخزانہ

    نااہل وزیراعظم پر دبائواس کے لئے ناقابل برداشت ہوتا جارہا ہے جس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ قدیم محاورہ ہے کہ بدقسمتی برق رفتارگھوڑے پر بیٹھ کر آتی ہے لیکن اگر واپسی کا فیصلہ کر بھی لے تو پیدل واپس جاتی ہے۔ عدالتی معاملات تو اپنی جگہ، شریک ِ حیات کی بیماری نے بھی ابھی آناتھا؟ افسوس ناک خبرہے کہ’’بیگم کلثوم نوازکی طبیعت بگڑ گئی، نوازشریف آج ہی لندن روانہ ہوں گے‘‘ اللہ پاک انہیں صحت اور نواز شریف کو دبائوکا سامناکرنے کی ہمت عطا فرمائے اور وہ کہنے سےپہلے تھوڑا سوچ لیا کریں کہ کیا کہنے جارہے ہیں اور اس کے نتائج کیا ہوسوتےہیں۔ناقابل برداشت دبائو سمجھنے کے لئے صرف دو تازہ ترین مثالیں ہی بہت کافی ہیں مثلاً پہلے ان کا پسندیدہ وِرد یہ سوال تھا کہ ’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘ تازہ ترین انکشاف ہے ’میں جانتاہوں میرا اصل جرم کیاہے‘‘ یعنی وہ جانتے ہیں انہیں کیوں نکالا گیا۔ ادھر ’’نوازشریف کو کیوں نکالا؟‘‘کے حوالہ سے پی ٹی آئی نے آگاہی مہم چلانے کافیصلہ کیا ہے تاکہ عوام کو حقائق سے آگاہ کیاجاسکے۔ پی ٹی آئی کو یہ کام اسی وقت شروع کردینا چاہئے تھا جب نواز شریف نے حقائق مسخ کرنے، دھول اڑانے اور کنفیوژن پھیلانے کا کام دکھانا شروع کیا تھا لیکن چلو دیر آید درست آید۔ یہاں تک سب ٹھیک تھا لیکن میاں نواز شریف بڑھتے بڑھتے، پھیلتے پھیلتے خطرناک ترین حدود میں داخل ہوگئے ہیں مثلاً.....’’منتخب حکومت تسلیم کریں۔ ڈر ہے پاکستان کسی ’’سانحہ‘‘کا شکار نہ ہوجائے۔‘‘’’غلط فیصلوں سے ملک ’’ٹوٹا‘‘ تمیز الدین کیس سے شروع ہونے والا 30سالہ کینسر ٹھیک نہ ہوا تو ڈر ہے پھر کوئی ’’حادثہ‘‘ نہ ہو جائے‘‘’’منتخب حکومت کو نشانہ بنانےسے ملک ’’دولخت‘‘ ہوا! ڈر ہے پھر کوئی ’’سانحہ‘‘ نہ ہو جائے۔میاں نواز شریف اس طرح کےبیانات دے کر وارننگ یا چتنائونی نہیں..... پاکستان اور پاکستانیوں کو دھمکی دے رہے ہیں، سقوط ِ ڈھاکہ کی طرف اشارے کر رہے ہیں، سانحہ مشرقی پاکستان کی یاد دلار ہے ہیں تو تفصیل میں جائے بغیر انہیں سمجھانا، بتانا اور یاد دلانا چاہتا ہوں کہ دیگر لاتعداد عوامل و اسباب کو علیحدہ رکھتے ہوئے صرف اس پر توجہ فرمائیں کہ مغربی و مشرقی پاکستان کی جغرافیائی حدود کے درمیان سینکڑوں میل کا فاصلہ اور درمیان میں ہندوستان جیسا دشمن تھا۔ پاکستان نیوکلیئر پاور بننے سےبہت دور تھا اور سب سے اہم یہ کہ شیخ مجیب الرحمٰن کلین سویپ کرچکا تھا لیکن اب؟؟؟ بہتر ہوگا اس ’’خیالِ بد‘‘ کا بیج پھوٹنے سے پہلے ذہن سے نکال دیں ورنہ انجام کی پیش گوئی کے لئے نہ نجومی ہونا ضروری ہے نہ پولیٹکل سائنٹسٹ ہونے کی شرط ہے۔ نااہل شریف کے پالتو درباریوں حواریوںکو چاہئے انہیں سمجھائیں کہ وہ اپنی تیزی سے سکڑتی ہوئی حدود سے تجاوز نہ کریں۔ یہاں ضمناً ایک بات شیئر کرتا چلوں کہ مجھے ان کے ایک قریبی شخص نے بتایا کہ یہ لوگ کشمیری شیخ ہیں جیسے شیخ رشید لیکن ناموں کے ساتھ ’’شیخ‘‘ لکھتے نہیں۔ شیخ ہونا اور سانحہ مشرقی پاکستان کے حوالے دینا ایک عجیب اتفاق ہے۔ بہرحال یہ شیخ والی بات غلط ہو تو تصحیح کے لئے حاضرہوں۔ پچھلے پیرے میں، میں نے میاں صاحب کی ’’سکڑتی ہوئی حدود‘‘کا ذکر کیا ہے جسے مزید سمجھنے کےلئے اسحاق ڈار کی عدالت میں پیشی والی فوٹیج دوبارہ دیکھئے یا دھیان میں لایئے۔ مجھے تو یوں محسوس ہوا کہ ڈار صاحب عدالت جا نہیں رہے، سہارا دے کر لے جائے جارہے ہیں۔ فرد ِ جرم عائد، حسب ِ توقع ڈار کا الزام تسلیم کرنے سے انکار لیکن کب تک؟ اگلی پیشی 4اکتوبر تو محاورے والی وہ بندریا یاد آتی ہے جس کے پائوں جلنے لگے تو اس نے بچے پائوں کے نیچے رکھ لئے، یہ تو صرف ’’سمدھی‘‘ ہے اور جو ایک بار وعدہ معاف گواہ بن چکا، اس کے لئے دوسری، تیسری، چوتھی، دسویں، بیسویں بار کیا مشکل کہ ہر کام پہلی بار ہی ’’مشکل‘‘ ہوتا ہے۔ شیخ رشید نے ڈار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’’سب سے گہرے پانی میں اسحاق ڈارہے‘‘ تو شیخ صاحب بھول رہے ہیں کہ ڈار کی شکل میں بھی نواز شریف ہی ٹربل میں ہے کیونکہ یہ مصرع ایسی سچوئشن کے لئے ہی لکھا گیا ہے؎’’ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے‘‘بلکہ میرا تجزیہ تو اس سے بھی تین ہاتھ آگےہے کہ اسحاق ڈار جتنے بھی گہرے پانی میں ہو، اپنے مالک اور محسن کو اس کی گہرائی کے سپرد کرکے خود ’’لائف جیکٹ‘‘ سمیت صحیح سلامت باہر نکل آئے گا، اندر جائے گا بھی تو ملی بھگت سے کہ بگلہ بھگت اسی کو کہتے ہیں۔ڈار کاجرم یہ نہیں کہ اس نے آمدنی سے کئی گنا زیادہ اثاثے بنانے کے نئے ریکارڈ قائم کئے اور لوٹ مار، کرپشن کو فائن آرٹ کے درجہ تک پہنچا دیا۔ اسحاق ڈار کا اصل اور ناقابل معافی جرم یہ ہے کہ اول اس نے نواز شریف فیملی کو اقتصادی جرائم کے نت نئے گر سکھائے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اس شخص نے پاکستان کی اقتصادیات کو ’’معاشی میانی صاحب‘‘ تک پہنچا دیا ہے۔ آج سے تقریباً ساڑھے چار سال پہلے انتخابی مہم کے دوران میں بار بار کہہ بھی رہا تھا، لکھ بھی رہا تھا کہ اگر ن لیگ جیت گئی تو اقتصادی حوالوں سے عوام کی چانگڑیںمریخ پر بھی سنائی دیں گی؟..... وہ وقت آچکا۔ تب احباب نے پوچھا کہ میں اتنے یقین سے اتنی بڑی بات کیوں کررہاہوں تو میں انہیں ایک ہی جواب دیتا تھا۔’’کیونکہ نواز شریف کا وزیر خزانہ اسحاق ڈار ہوگا، اور جیسا وزیراعظم ویسا ہی وزیر خزانہ ہوگا‘‘دیکھتے جائو..... ہوتا کیاہے؟

    https://jang.com.pk/print/382219-jaisa-wazir-e-azam-waisa-he-wazir-e-khazana
     
  4. Dastaan

    Dastaan FULL MEMBER

    Messages:
    726
    Joined:
    Jan 6, 2017
    Ratings:
    +0 / 479 / -0
    Country:
    Pakistan
    Location:
    Pakistan
  5. Dastaan

    Dastaan FULL MEMBER

    Messages:
    726
    Joined:
    Jan 6, 2017
    Ratings:
    +0 / 479 / -0
    Country:
    Pakistan
    Location:
    Pakistan
  6. Dastaan

    Dastaan FULL MEMBER

    Messages:
    726
    Joined:
    Jan 6, 2017
    Ratings:
    +0 / 479 / -0
    Country:
    Pakistan
    Location:
    Pakistan
  7. Dastaan

    Dastaan FULL MEMBER

    Messages:
    726
    Joined:
    Jan 6, 2017
    Ratings:
    +0 / 479 / -0
    Country:
    Pakistan
    Location:
    Pakistan
  8. Dastaan

    Dastaan FULL MEMBER

    Messages:
    726
    Joined:
    Jan 6, 2017
    Ratings:
    +0 / 479 / -0
    Country:
    Pakistan
    Location:
    Pakistan
  9. Dastaan

    Dastaan FULL MEMBER

    Messages:
    726
    Joined:
    Jan 6, 2017
    Ratings:
    +0 / 479 / -0
    Country:
    Pakistan
    Location:
    Pakistan
  10. Dastaan

    Dastaan FULL MEMBER

    Messages:
    726
    Joined:
    Jan 6, 2017
    Ratings:
    +0 / 479 / -0
    Country:
    Pakistan
    Location:
    Pakistan