What's new

Featured جوہری توانائی ۔ تصویر کا دوسرا رُخ

RadioactiveFriends

PDF Associate
Feb 24, 2015
147
2
307
Country
Pakistan
Location
Pakistan

بنی نوع انسان کی فلاح و بہود کے لیے جوہری توانائی بروئے کار لانا بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی ) کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان اس کے بانی ممبران میں سے ہے جب پاکستان 2مئی 1957کو اس کا ممبر بنا اور تب سے اب تک اس کا ایک فعال رکن ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے جوہری توانائی کے پُرامن استعمال کا علمبردار رہا ہے۔ چونکہ پاکستان بذاتِ خود توانائی کے بحران کا شکار ہے اس لیے پاکستان کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرے اور اُنہیں اپنے عوام کی بھلائی کے لیے بروئے کار لائے۔

پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے اور ترقی پذیر ملک ہونے کے ناطے اس کی توانائی کی ضرورت دن بہ دن بڑھتی چلی جارہی ہے۔ جسے روایتی توانائی کے ذرائع حصول جس میں گیس ، کوئلہ اور ڈیزل وغیرہ شامل ہیںـ سے پورا نہیں کیا جا سکتا اور لوڈ شیڈنگ کرنی پڑتی ہے۔ وہ بھی موسم گرما میں جب بچے تعلیم کے حصول میں کوشاں رہتے ہیں یا مریض گھروں میں بیماری کی صعوبتیں برداشت کرتے ہیں۔

پاکستان میں اس وقت 25ہزار میگا واٹ سے زائد بجلی کی ضرورت ہے جبکہ پاکستان بمشکل تمام 19ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے۔ متبادل ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی تقریباً 3 ہزار میگا واٹ ہے۔ یعنی پاکستان کو تقریباً 5سے 6ہزار میگا واٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے۔ موسمیاتی تغیرات اور عالمی ماحولیاتی تبدیلیاں اس بات کے متقاضی ہیں کہ توانائی کے متبادل ذرائع ڈھونڈے جائیں جو کہ نہ صرف معیاری اور سستے ہوں بلکہ ان کی فراہمی بلا تعطل یقینی بنائی جا سکے۔

پاکستان نے یہ پالیسی وضع کی ہے کہ وہ بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تمام ذرائع بروئے کا ر لائے گا ۔ ہوا اور شمسی توانائی سے چلنے والے بجلی گھر یہ ضروریات پوری کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ ان کی پیداوار نہ صرف نسبتاً مہنگی ہے بلکہ یہ تسلسل سے بجلی کی ضرورت پُوری نہیں کر سکتے ۔ اس کا جواب جوہری توانائی کا حصول ہے۔

ایٹم انسان کی زدگی میں کتنی اہمیت کا حامل ہے اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس سے نہ صرف سستی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے بلکہ اس سے کینسر جیسے موذی اور پیچیدہ بیماریوں کا علاج بھی ممکن ہے۔ زراعت کی پیداوار میں کئی گُنا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ صنعت وحرفت کی ترقی اور معدنی وسائل کی دریافت میں بھی ممدومعاون ہے۔ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے استعمال میں لایا جائے اورکثیر زرِمبادلہ کمایا جائے۔ جوہری توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی نہ صرف یہ کہ سستی ہے بلکہ اس کی بلا تعطل رسد بھی ممکن ہے اور یہ ماحول دوست بھی ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی اسی کو بروئے کار لا رہے ہیں۔

پاکستان بھی اُن تیس ممالک میں شامل ہے جہاں جوہری توانائی سے چلنے والے بجلی گھر ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا میں مزید 40 ممالک جوہری توانائی کے پروگرام شروع کرنے کے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ پاکستان پُر امن مقاصد کے لیے جوہری توانائی استعمال کرنے کا وسیع تجربہ اور صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان محفوظ ترین جوہری توانائی سے چلنے والے بجلی گھر چلانے کا قابلِ رشک ریکارڈ رکھتا ہے۔ اس کی مثال چشمہ نیو کلیئر پاور پلانٹ اور کراچی میں واقع کینوپ ہیں جو نیشنل گرڈ کو 1350 میگاواٹ بجلی فراہم کر رہے ہیں۔ حکومت کو چائیے کہ توانائی کے متبادل ذرائع استعمال میں لانے کے لیے مزید اقدامات اٹھائے تا کہ عوام کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔​

Nawaiwaqt
 

Users Who Are Viewing This Thread (Total: 1, Members: 0, Guests: 1)


Top Bottom