• Friday, July 19, 2019

انڈیا کی شکست پر بنگلادیش میں خوشی کی لہر :بی بی سی

Discussion in 'Sports' started by Shahzaz ud din, Jul 13, 2019 at 3:19 AM.

  1. Shahzaz ud din

    Shahzaz ud din SENIOR MEMBER

    Messages:
    4,793
    Joined:
    Jun 12, 2017
    Ratings:
    +6 / 6,411 / -0
    Country:
    Pakistan
    Location:
    Canada
    انڈیا کی شکست پر بنگلادیش میں خوشی کی لہر :بی بی سی


    نجیب بہاربی بی سی بنگلہ، ڈھاکہ
    • 6 گھنٹے پہل
    [​IMG]تصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES

    انڈیا کو عالمی کرکٹ کپ کے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور یہ ہم سب جانتے ہیں۔ نیوزی لینڈ میں شائقین کرکٹ کے لیے یہ ایک خوشی کی خبر تھی لیکن بنگلہ دیش میں انڈیا کی اس ہار پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر پرمسرت پیغامات کی بھر مار ہو گئی۔

    سوشل میڈیا پر انڈیا کی کرکٹ کے خلاف طنزیہ فقروں اور میم کا ایک ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ صاف ظاہر تھا کہ بنگلہ دیش میں کرکٹ شائقین کی اکثریت انڈیا کی شکست پر بہت خوش ہے۔

    بی بی سی بنگلہ سروس کی طرف سے فیس بک پیج پر انڈیا کی شکست کی خبر کی اشاعات کے بعد بہت سے فیس بک صارفین نے خوشی کے جذبات کا اظہار شروع کر دیا۔

    مزیر پڑھیے:

    نیوزی لینڈ نے کس طرح انڈیا کے خواب توڑ دیے

    فیس بک کے ایک صارف رونت بروا نے لکھا کہ غرور کا سر نیچا ہوتا ہے۔ اپنے مدِ مقابل کا احترام کھیل کا ایک اہم جز ہے لیکن انڈیا نے یہ کبھی نہیں سیکھا۔

    عائشہ رحمان نے لکھا کہ انڈیا کا غرور چکنا چور ہو گیا۔ ابو صالح نے پیغام بھیجا کہ انڈیا کے میچ ہارنے کے بعد بنگلہ دیش کے لوگوں کی انڈیا کے خلاف نفرت بہت واضح ہو جاتی ہے۔

    کیا یہ اب صرف کرکٹ تک ہی ہے؟ اس نفرت کی وجہ کیا ہے؟
    بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ سیاسی اور سفارتی سطح پر انڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے لیکن عوام میں اس نفرت کی جڑیں بہت گہری ہیں اور اس کا تعلق خطے میں سیاست سے ہے جو اکثر انڈیا کھیلتا ہے۔

    [​IMG]تصویر کے کاپی رائٹPHIL WLATER
    راجیو نندی چٹگانگ کی یونیورسٹی میں ذرائع ابلاغ کے شعبے سے منسلک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کھیل میں لوگ ضرورت سے زیادہ جذباتی ہو جاتے ہیں۔ تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بہت عام سی بات ہے کہ سیاست، قومیت اور تصفیہ طلب معاملات بائیس گز کے اس کھیل پر بھی حاوی ہو جاتے ہیں۔

    اس کی مثال دیتے ہوئِے انھوں ے کہا کہ جب انڈیا ہارتا ہے تو کشمیر کے لوگ خوش ہو جاتے ہیں۔ جب بنگلہ دیش نے انگلینڈ کو چٹاگانگ میں ہرایا تھا تو اخبارات میں سرخیاں شائع ہوئی تھی انگلینڈ کو ’کاٹ دیا گیا‘۔ اس طرح جب بنگلہ دیش پاکستان کو ہراتا ہے تو لوگوں کو وہ ہی خوشی ہوئی تھی جو انھیں اکہتر کی جنگ میں پاکستان کے خلاف جنگ جیت کر ہوئی تھی۔

    [​IMG]تصویر کے کاپی رائٹMUNIR UZ ZAMAN
    زبیدہ نسرین جو ڈھاکہ میں علوم بشریات پڑھاتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ انڈیا برصغیر میں ایک جارحانہ کردار ادا کرتا ہے۔ وہ تجارت، فنون لطیفہ، ثقافت اور ادب میں اپنی برتری ثابت کرنے کی کوشش میں رہتا ہے۔ اس کی وجہ سے بنگلہ دیش کے عوام میں انڈیا مخالف جذبات پیدا ہوتے ہیں۔

    زبیدہ نسرین نے کہا کہ انڈیا تاریخی طور پر دو مذاہب میں تقسیم رہا ہے۔ مذہب اب بھی برصغیر میں بہت اہم ہے۔ لہذا اگر مذہب کی بنیاد پر کوئی جماعت اقتدار میں آ کر مسلمانوں کو نشانہ بناتی ہے تو بنگلہ دیش جو مسلم اکثریت والا ملک ہے وہاں انڈیا مخالف جذبات پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔

    نندی کا کہنا ہے بنگلہ دیشی لاشعور میں انڈیا سے نفرت کرتے ہیں جس کی وجہ سرحد پر انڈیا کے سرحدی گارڈوں کی طرف سے بنگلہ دیشیوں کی ہلاکتیں، علاقائی سیاست، بنگلہ دیش کی معیشت پر انڈیا کا تسلط اور ہندو انتہائی پسندی میں شدت ہے۔

    سوشل میڈیا اس طرح کے قومی جذبات اور نفرت کے اظہار کا ذریعہ ہے اور اس طرح کے مواقع پر اس کا بھرپور مظاہرہ دیکھنے میں آتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا جلتی پر تیل کا کام کرتا ہے۔